ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل کے کونار میں راشن تقسیم میں بدنظمی کا الزام؛ عوام نے کیا پنچایت دفتر کا گھیراؤ؛ صدر کے خلاف برہمی؛ پولس کو کرنے پڑی مداخلت

بھٹکل کے کونار میں راشن تقسیم میں بدنظمی کا الزام؛ عوام نے کیا پنچایت دفتر کا گھیراؤ؛ صدر کے خلاف برہمی؛ پولس کو کرنے پڑی مداخلت

Tue, 20 Jun 2017 20:49:48    S.O. News Service

بھٹکل:20/جون (ایس اؤنیوز) بھٹکل تعلقہ کے کونار گرام پنچایت علاقہ میں راشن تقسیم کا نظام بہت ہی خراب ہے، جس کے لئے مقامی گرام پنچایت ہی اہم وجہ سبب ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے آس پا س کے دیہات کے عوام نے منگل کی دوپہر پنچایت دفتر کا گھیراؤ کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔

مقامی مکین ناگیش نائک کی قیادت میں عوام نے پنچایت دفتر کے اندر داخل ہوکر وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے ، تعلقہ پنچایت افسر سی ٹی نائک سمیت بھٹکل دیہی پولس تھانہ انسپکٹر وی ایم چنداور اپنی ٹیم کے ساتھ اطلاع پاتے ہی جائے وقوع پرپہنچ گئے اورمشتعل عوام کی شکایات کو سماعت کے لئے آگے بڑھے۔  پنچایت آفیسر سی ٹی نائک نے عوام کو جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک سرکاری دفتر ہے ، یہاں کسی طرح کا احتجاج وغیرہ کرنا ہے تو پیشگی طورپر افسران کو اس کی اطلاع دینی لازمی ہے، انہوں نے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ اچانک پنچایت دفتر میں گھس کر اس طرح کا رویہ اپنانا ٹھیک نہیں ہے۔ عوام نے افسر کی بات پر کوئی توجہ دئے بغیر اس بات پر آڑ گئے کہ گذشتہ 6 سالوں سے کونار علاقہ میں راشن کا مسئلہ درپیش ہے ، ہم نے اعلیٰ افسران کو مسئلہ کے متعلق کئی بار توجہ دلائی ہے، ابھی تک کسی نے بھی حل کرنے کی کوشش نہیں کی، انہوں نے اس کے لئے پنچایت انتظامیہ کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کو اہم سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم گرفتار ہونے کے لئے تیار ہیں ،لیکن جب تک پنچایت صدر یہاں آکر ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دیں گے یہاں سے اٹھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔  پنچایت کے کارگزار ترقی افسر کے ایم نائک نے موبائیل پر پنچایت صدر رادھا کرشنا اپادھیاسے رابطہ کرتےہوئے احتجاج کی اطلاع دی، جیسے ہی وہ  دفتر پہنچے عوام نے صدر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ مگر صدر رادھا کرشنانے پرسکون اندازمیں ہی عوام کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ پنچایت کی عام میٹنگ میں جو بھی فیصلہ لیا جاتاہے وہ صرف اُن کا  اکیلے کا نہیں ہوتا ، انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ بدھ کی شام کو بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر نے میٹنگ بلائی ہے، وہاں اس مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے مسئلہ کا حل ڈھونڈنے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔

اس کے بعد پڑوس کے ایک ہال میں پنچایت صدر، کچھ ممبران اور پولس افسران کی موجودگی میں میٹنگ کا انعقادہوا۔ وہاں بھی عوام نے اپنی ناراضگی کا اظہا ر کیا۔ اس موقع پر ناگیش نائک نے کہاکہ 5-6سالوں سے کونار میں راشن دکان چلانے والے ہوناور ٹی اے پی ایم سی کے افسران نے عملہ کی قلت کا بہانہ بنا کر دکان چلانا ممکن نہیں ہونے کی بات کی ہے اور تحریری طور پر پنچایت کو خبر بھی کی ہے۔  پنچایت ترقی افسر نے اس معاملے کو لے کر اعلیٰ افسران کو تحریری طورپر سمجھایا بھی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقامی سطح کے 2اداروں نے راشن دکان کے لئے درخواست دے رکھی ہے ان میں سے جو بھی اہل ہے اس کو جلدسے جلد  موقع فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح کے دو اداروں پر توجہ دینے کے بجائے پنچایت انتظامیہ کا یہ کہنا کہ ہم خود اس کا انتظا م کریں گے پیچیدگی کو دعوت دینے والاہے، اور یوں مسئلہ کے لئے خودپنچایت انتظامیہ ذمہ دارہے۔ اس دوران پنچایت صدر اور احتجاجیوں کے درمیان لفظی  نوک جھونک بھی ہوئی ۔ پولس نے مداخلت کرتے ہوئے بدھ کی شام اے سی کی موجودگی میں ہونے والی میٹنگ میں حل نکالنےکی بات کرتے ہوئے مطمئن کیا۔

پنچایت صدر رادھا کرشنا اپادھیا نے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے کہاکہ بے وجہ پنچایت صدر کو مورد الزام ٹھہرانا صحیح نہیں ہے۔ عوامی عرضیوں کو عام میٹنگ میں پیش کرتے ہوئے فیصلہ لیا جاتاہے، بدھ کو اے سی کی موجودگی میں میٹنگ ہونے والی ہے ، وہاں جو بھی فیصلہ ہوگا ہم اس کے لئے تیار ہیں۔


Share: